Press "Enter" to skip to content

Revised HEC Policy on PhD Degree Programs

Sharing is caring
  •  
  •  
  • 1
  •  
  •  
  •  
    1
    Share

Notification | Revised HEC Policy on PhD Degree Programs | Higher Education Commission | January 19, 2021

Notification | Revised HEC Policy on PhD Degree Programs | Higher Education Commission | January 19, 2021

In pursuance of the approval of the Commission in its 38th meeting held on November 27,28, 2020, the ‘HEC Policy on PhD Degree Programs’ is hereby notified for implementation by all the higher education institutions in the country. The revised policy aims at raising the quality of PhD programs.

  1. Core principles and purposes of the revised policy are set out in the Section-1. Keeping In view the currently enrol students in PhD programs, a number of provisions of the revised policy have not been made retrospectively applicable, and several of the new initiatives are applicable only to new entrants to PhD programs. Annexe 1.8 of the revised policy specifies timelines of applicability of different provisions to currently enrolled students, in accordance with which, the revised policy shall supersede all previous PhD policies and notifications.
  2. The revised ‘HEC Policy on PhD Degree Programs’is available at this link.

اعلیٰ تعلیمی کمیشن پاکستان کی جانب سے نئی پی ایچ ڈی پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

اعلیٰ تعلیمی کمیشن پاکستان نے بڑی اور قابل ذکر تبدیلیوں کے ساتھ نئی پی ایچ ڈی پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، نوٹیفیکیشن کے مطابق جامعات میں پہلے سے انرولڈ پی ایچ ڈی کے طلبہ پر مکمل یا من و عن اطلاق نہیں ہوگا تاہم پالیسی کے کچھ جزوی حصوں سے پرانے طلبہ فائدہ لے سکتے ہیں، اس حوالے سے نوٹیفیکیشن میں پالیسی کے annexure 1.8 کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق سیکشن 4.4 بی جو کہ ٹھیس کی ایویلیو ایشن کے حوالے سے ہے اور پی ایچ ڈی ٹھیس کی ایویلیو ایشن اب پاکستانی پروفیسر بھی کرسکتے ہیں اور اگر طالب علم اپنا ریسرچ پیپر ایکس کیٹگری کے جنرل میں شائع کروالیں تو اس کے پی ایچ ڈی تھیسز کو صرف ایک ہی پروفیسر کے پاس ایویلیو ایشن کے لیے بھیجا جاسکتا ہے۔

پالیسی کی اس شق سے پہلے سے انرولڈ پی ایچ ڈی طلبہ بھی اب فائدہ لے سکیں گے مزید یہ کہ شق 4.5 کے مطابق پی ایچ ڈی ڈگری کے حصول کے لیے “y” کیٹگری میں ایک ریسرچ پیپر چھپوانا ضروری ہے اسی طرح 4.7 شق میں طلبہ کو اپنی پی ایچ ڈی ڈگری کم سے کم تین اور زیادہ سے زیادہ 8 سال میں پوری کرنی ہوگی اگر کوئی طالب علم کسی ناگزیر وجہ کی بنا پر اس عرصہ میں اپنی ریسرچ مکمل نہ کرسکے تو competent authority اسے مزید سال کی مہلت دے سکتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اس پالیسی نے ڈاکٹریٹ کے خواشمند طلبہ کے لیے محض اپنے ہی ڈسپلن میں پی ایچ ڈی کرنے کی عائد شرط ختم کردی ہے، طلبہ 4 سالہ بی ایس کے بعد براہ راست پی ایچ ڈی کرسکیں گے، طلبہ ایک سے دوسرے ”ضابطے“ (Discipline) میں بھی شرائط کے ساتھ پی ایچ ڈی کرسکتے ہیں، طلبہ کے لیے ایم فل لیڈنگ ٹوپی ایچ ڈی کے دروازے تو بند رکھے گئے ہیں تاہم دوران پی ایچ ڈی مطلوبہ قابلیت کی بنیاد پر صرف ایم ایس/ایم فل ڈگری لی جاسکے گی۔

اسی طرح پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کے لیے مطلوبہ مدت میں کم از کم 2 سال تک اپنے ملک میں رہنے کی پابندی بھی عائد کی گئی ہے، مزید براں پی ایچ ڈی مقالے جائزے کے لیے غیرملکی ماہرین کو بھیجنے کی لازمی شرط بھی ختم کرتے ہوئے اسے پاکستانی ماہرین کو بھجوانے کی بھی اجازت ہوگی پالیسی ڈرافٹ کے مطابق نئی پالیسی یکم جنوری 2021سے قابل اطلاق ہے۔

پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلوں کے لیے کم سے کم مطلوبہ قابلیت ”بی ایس“یا مساوی ڈگری ہے دوران ایم ایس/فل کی تکمیل کی مطلوبہ قابلیت تک پہنچنے والے طالب علم کواس کی منشا کے مطابق مذکورہ سند تفویض کرسکتی ہے اور پی ایچ ڈی کے لیے انرولمنٹ کرانے والے امیدواروں کو ڈاکٹریٹ کی تعلیم کے دوران مطلوبہ معیارات پورے کرنے کی صورت میں ایم ایس/ایم فل ڈگری جاری کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔

Notification | Revised HEC Policy on PhD Degree Programs | Higher Education Commission | January 19, 2021 - allpaknotifications.com

For the good cause of spreading information to everyone, now you can share important Notifications / Orders / Court Judgments / Rules & Regulations / Press Releases / Question Papers, etc with us at allpaknotifications@gmail.com that we will publish here.

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *